ہمبستری یا جنسی تعلق ایک ایسا موضوع ہے جس پر ہمارے معاشرے میں کم اور اکثر غلط بات کی جاتی ہے، خاص طور پر جب بات لڑکیوں کی ہو۔ حالانکہ یہ ایک قدرتی عمل ہے، لیکن اس کے لیے صحیح عمر، ذہنی پختگی، جسمانی تیاری اور باہمی رضامندی کا ہونا بے حد ضروری ہے۔
جسمانی بلوغت اور ہمبستری
اکثر لوگ بلوغت کو ہمبستری کے لیے کافی سمجھ لیتے ہیں، جو کہ ایک غلط فہمی ہے۔ بلوغت کا مطلب صرف یہ ہے کہ جسم میں ہارمونل تبدیلیاں آنا شروع ہو گئی ہیں، نہ کہ جسم مکمل طور پر ہمبستری یا حمل کے لیے تیار ہو گیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق:
- لڑکی کا جسم عام طور پر 18 سے 21 سال کی عمر کے بعد مکمل طور پر نشوونما پاتا ہے
- کم عمری میں ہمبستری سے حمل، انیمیا، ہڈیوں کی کمزوری اور پیچیدہ ڈیلیوری جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں
ذہنی اور جذباتی پختگی
ہمبستری صرف جسمانی عمل نہیں بلکہ ایک گہرا جذباتی تعلق بھی ہے۔ کم عمر لڑکیاں اکثر:
- اپنے جذبات کو سمجھنے میں مشکل محسوس کرتی ہیں
- دباؤ یا زبردستی کا شکار ہو سکتی ہیں
- بعد میں ذہنی دباؤ، خوف یا پچھتاوے کا سامنا کر سکتی ہیں
ذہنی پختگی کا مطلب یہ ہے کہ لڑکی:
- اپنی مرضی سے فیصلہ کر سکے
- “نہیں” کہنے کی طاقت رکھتی ہو
- تعلق کی ذمہ داری کو سمجھے
قانونی اور معاشرتی پہلو
زیادہ تر ممالک میں قانون کے مطابق:
- 18 سال سے کم عمر میں ہمبستری کو جرم سمجھا جاتا ہے
- شادی سے پہلے یا بعد میں بھی کم عمری میں تعلق قانونی مسائل پیدا کر سکتا ہے
اسلامی اور مشرقی معاشروں میں بھی نکاح کے ساتھ ذمہ داری، رضامندی اور جسمانی اہلیت پر زور دیا گیا ہے، نہ کہ صرف عمر کے ہندسے پر۔
تو پھر صحیح عمر کیا ہے؟
کوئی ایک عدد سب کے لیے درست نہیں، لیکن ماہرین صحت اور سماجی ماہرین عام طور پر متفق ہیں کہ:
- 18 سال سے کم عمر میں ہمبستری سے گریز کرنا چاہیے
- بہتر یہ ہے کہ لڑکی جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر مکمل طور پر تیار ہو
- تعلق باہمی رضامندی، تحفظ اور ذمہ داری کے ساتھ ہو
والدین اور معاشرے کا کردار
اس موضوع پر خاموشی مسئلے کو حل نہیں کرتی بلکہ بڑھا دیتی ہے۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ:
- لڑکیوں کو درست اور عمر کے مطابق معلومات دیں
- خوف یا شرمندگی کے بغیر بات چیت کا ماحول بنائیں
- انہیں خود اعتمادی اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت سکھائیں
نتیجہ
ہمبستری کی “صحیح عمر” صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی، جذباتی، قانونی اور اخلاقی تیاری کا مجموعہ ہے۔ لڑکیوں کو جلدی فیصلوں یا سماجی دباؤ کی بجائے اپنی صحت، عزت اور مستقبل کو ترجیح دینی چاہیے۔
صحیح معلومات، کھلی گفتگو اور ذمہ دار رویہ ہی ایک محفوظ اور صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔