رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کے حوالے سے بہت سے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں ایک عام سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ناپاکی (جنابت) کی حالت میں سحری کر لے تو کیا اس کا روزہ درست ہوگا یا نہیں؟ اس مضمون میں ہم اس مسئلے کو سادہ انداز میں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
ناپاکی کی حالت کیا ہوتی ہے؟
اسلام میں جنابت اس حالت کو کہتے ہیں جب کسی شخص پر غسل فرض ہو جائے، مثلاً:
- میاں بیوی کے تعلق کے بعد
- احتلام (خواب میں منی خارج ہونا) کے بعد
ایسی حالت میں نماز ادا کرنے یا قرآن کو ہاتھ لگانے سے پہلے غسل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
ناپاکی کی حالت میں سحری کرنے کا حکم
اگر کوئی شخص رات میں جنابت کی حالت میں ہو اور فجر سے پہلے سحری کر لے لیکن ابھی غسل نہ کیا ہو تو اس کا روزہ بالکل درست ہوتا ہے۔
بہت سی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات فجر کا وقت ہو جاتا تھا اور غسل بعد میں کیا جاتا تھا لیکن روزہ رکھا جاتا تھا۔
اس لیے اگر کسی نے سحری جنابت کی حالت میں کر لی تو:
- اس کا روزہ صحیح ہے
- لیکن نماز کے لیے غسل کرنا ضروری ہے
اہم باتیں جو یاد رکھنی چاہئیں
- جنابت کی حالت روزے کو باطل نہیں کرتی۔
- نماز ادا کرنے کے لیے غسل ضروری ہے۔
- کوشش کرنی چاہیے کہ پاکیزگی کا خیال رکھا جائے۔
عام غلط فہمی
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر سحری کے وقت غسل نہ کیا جائے تو روزہ نہیں ہوتا۔ یہ بات درست نہیں ہے۔ اصل شرط یہ ہے کہ فجر کے بعد کھانا پینا بند ہو جائے اور روزے کی نیت ہو۔
خلاصہ
اگر کوئی شخص جنابت کی حالت میں سحری کر لیتا ہے تو اس کا روزہ درست ہے۔ البتہ نماز ادا کرنے کے لیے جلد از جلد غسل کرنا ضروری ہے تاکہ عبادات صحیح طریقے سے ادا کی جا سکیں۔
رمضان کا مقصد صرف بھوکا پیاسا رہنا نہیں بلکہ پاکیزگی، تقویٰ اور اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔
Also read ہمبستری کے دوران بالکل خاموش یا بے حس رہنا: وجوہات، اثرات اور حل